بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رابرٹ کیگن (Robert Kagan)، امریکہ کے بااثر ترین نو-قدامت پرست شخصیات (Neo-conservatives) میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی تزویراتی شکست اور ایران کی فتح کے بارے میں، دی اٹلانٹک (The Atlantic) میں ایک مضمون لکھا ہے جس کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:
حصۂ دوئم:
- لیکن جو حکومت پانچ ہفتوں کے بے رحم فوجی حملوں کے باوجود نہیں جھکی، اس کا امکان بہت کم ہے کہ وہ صرف معاشی دباؤ پر ہی گھٹنے ٹیک دے؛ اور پھر
- ایرانی حکومت کو اپنے عوام کی زبردست حمایت حاصل ہے [اور ایرانی عوام جنگ کے پہلے دن سے ہی سڑکوں پر حاضر ہیں اور حکومت کی حمایت کر رہے ہیں]۔
- امریکہ میں جنگ کے کچھ حامی لوگ، فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے خواہاں ہیں، لیکن وہ یہ وضآحت کرنے سے عاجز ہیں کہ کہ بمباری کا ایک اور دور ایسا کیا حاصل کر لے گا جو 37 دن کی بمباری سے حاصل نہ ہو سکا۔
- مزید فوجی کارروائی ناگزیر طور پر ایران کو خلیج فارس کے پڑوسی ممالک کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر مجبور کرے گی؛ جنگ کے حامیوں کے پاس اس مسئلے کا بھی کوئی جواب نہیں ہے۔
- ٹرمپ نے ایران پر حملے ناصبری کی وجہ سے نہیں روکے، بلکہ اس لئے روکے کہ ایران خطے کی تیل اور گیس کی اہم تنصیبات پر حملہ کر رہا تھا۔ تاریخی موڑ 18 مارچ کو آیا، جب اسرائیل نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر بمباری کی اور ایران نے جواب میں قطر کے صنعتی شہر راس لفان پر حملہ کر دیا، جو دنیا کی سب سے بڑی قدرتی گیس برآمد کرنے والی فیکٹری ہے، اور اس کی پیداواری صلاحیت کو اتنا نقصان پہنچایا جس کی مرمت پر برسوں کا عرصہ لگے گا۔ جواب میں،
- ٹرمپ نے ایران کے توانائی کی تنصیبات پر مزید حملے معطل کرنے کا اعلان اور پھر جنگ بندی کا اعلان کر دیا، حالانکہ
- ایران نے ایک چھوٹی سی رعایت بھی نہیں دی تھی۔
- اگر یہ شہ مات (Checkmate) نہیں ہے تو شہ مات کے قریب ضرور ہے؛ چنانچہ حالیہ دنوں میں
- کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی سے کہا ہے کہ وہ "محض فتح کا اعلان" کرنے اور "جنگ سے دستبردار ہونے" کے اعلان پر آنے والے اندرونی ملک رد عمل کا جائزہ لے؛ یقینا ٹرمپ مجبور ہے اور اس پر ملامت نہیں کی جاسکتی۔
- ایران کی حکومت کے خاتمے کی امید کوئی خاص حکمت عملی نہیں ہے، خاص طور پر جب حکومت پہلے ہی بار بار ہونے والے فوجی اور معاشی حملوں کے سامنے استقامت کر چکی ہے۔ شاید حکومت ختم ہو یا بالکل نہ ہو، ٹرمپ کے پاس فرصت نہيں ہے۔
- ٹرمپ کے پاس انتظار کرنے کا وقت نہیں ہے، جبکہ
- تیل قیمتیں 150 یا حتیٰ کہ 200 ڈالر فی بیرل کی طرف بڑھ رہی ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور خوراک اور عالمی سطح کی دیگر بنیادی اشیاء کی قلت شروع ہو رہی ہے؛ چنانچہ
- ٹرمپ بہت تیزرفتار حل کا محتاج ہے۔ لہٰذا، امریکہ کو ہتھیار ڈالنا پڑیں گے،
- امریکہ کے مؤثر طور پر ہتھیار ڈالنے کے سوا، کوئی بھی حل، بہت عظیم خطرات کا باعث بنے گا۔ گوکہ ٹرمپ نے اب تک اس مسئلے کی طرف کوئی رجحان نہیں دکھایا ہے۔
- جو لوگ سادہ لوحی کی انتہاؤں پر ٹرمپ سے کہتے ہیں کہ بس "کام تمام کر دے"، وہ شاذ و نادر ہی اخراجات کی تصدیق کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: علی رضا دائی چین
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ